دل بجھ گیا بہار میں، اچھا نہیں ہوا
یہ کس کے انتظار میں اچھا نہیں ہوا
اس نے بھی کی ہے عشق میں سود و زیاں کی بات
اُلفت کے کاروبار میں اچھا نہیں ہوا
آئی ہوائے ہجر، تو آنکھوں کے آئینے
پھر اٹ گئے غبار میں اچھا نہیں ہوا
تم ہی رہے نہ اپنے تو کچھ بھی نہیں رہا
اب کیا ہے اختیار میں اچھا نہیں ہوا
چنگاریاں نکلتی ہیں ہر ایک پھول سے
یہ حادثہ بہار میں اچھا نہیں ہوا
بسمل کسی کی یاد میں ہم دھوپ اوڑھ کر
بیٹھے ہیں رہگزر میں اچھا نہیں ہوا
بسمل صابری
No comments:
Post a Comment