Tuesday, 22 March 2022

اب بھی اک دست جنوں چاک گریبان تو ہے

 اب بھی اک دستِ جنوں چاکِ گریبان تو ہے

تیرے اس شہر میں یوں جینے کا ارمان تو ہے

سانس لینے کی سکت ہم میں ابھی باقی ہے

کچھ لٹانے کے لیے اب بھی مِری جان تو ہے

کب بچھڑ کر یوں جیا کرتے ہیں ہارے ہوئے لوگ

دیکھنا ہم میں کوئی دوسرا انسان تو ہے

ہجر کے لمحوں سے شعلوں کو صدا ہے شاید

وصل سے دور سہی دل میں تِرا دھیان تو ہے

اب سرِ دار درخشاں ہیں جگر کے سب داغ

اے چراغِ سحری! صبح کا امکان تو ہے

یوں قدم میرے بہک جاتے ہیں تیری جانب

جیسے اب بھی یہی رستہ مجھے آسان تو ہے

وحشتِ جاں کے بھی با وصف یہی ہے عامر

چاک کرنے کو مِرا اپنا گریبان تو ہے


عامر یوسف

No comments:

Post a Comment