Wednesday, 23 March 2022

رات کا بوجھ بھی تیار ہوں ڈھونے کے لیے

 رات کا بوجھ بھی تیار ہوں ڈھونے کے لیے

یہی قیمت ہے اگر روشنی ہونے کے لیے

اور کیا مانگ لیا اے سخی خصلت تجھ سے

صرف کندھا ہی تِرا، اور وہ بھی رونے کے لیے

اس نے دی خواب میں آنے کی بشارت مجھ کو

یعنی چاندی ہو گئی آج تو سونے کے لیے

تُو انہیں ساتھ بٹھائے گا تو مر جائیں گے

تیری محفل میں ترستے ہیں جو کونے کے لیے

دھات جذبات سے افضل تو نہیں ہو سکتی

خیر رائے جو بھی ہو آپ کی سونے کے لیے

یہ جنم تو ہے نہیں، یار! جوانی ہے مِری

لوگ کرتے ہیں جتن کیوں مِرے رونے کے لیے

تیری مرضی ہے دِلا! پر جو تِرا تھا ہی نہیں

رنج بنتا نہیں اس شخص کو کھونے کے لیے


مسعود ساگر

No comments:

Post a Comment