Thursday, 21 April 2022

چائے خانے میں بیٹھے سو فسطائی ادیبوں کے تیور

کوئٹہ عنابی ہوٹل


چائے خانے میں بیٹھے

سو فسطائی ادیبوں کے تیور عجیب ہیں

لگتا ہے وہ سب کچھ جانتے ہیں

خود نُمائی سے آلودہ، رعونت سے پراگندہ

ان کی تقریروں کی بساند سے

اطراف کی کرسیوں پر بیٹھے لوگ منہ بنا رہے ہیں

علم و عرفان کی مختلف جہات پر

ناقابل فہم تبصرے کرنے والے بے عمل ادیب

تہذیبوں کا نوحہ پڑھ رہے ہیں

خوش امیدی کی زخمی فاختہ آخری سانسیں لے رہی ہے

میز پر ناامیدی، مایوسی، شکوک و شبہات

اور کھوکھلے دعوؤں کی

غیر مطبوعہ کتابوں کے ورق پھڑپھڑا رہے ہیں

رات کے دو بج چکے ہیں

ملازم کرسیاں اٹھانے کے منتظر ہیں

سنے سنائے خیالات کی جُگالی کرنے

اور بے سروپا بیانات کو

چائے کے ہر گھونٹ کے بعد اُگلنے والے

اپنی اپنی انا کے اسیر سو فسطائی فلسفی ادیب

اب اس سوچ میں ہیں کہ

آج نشست کے خاتمے پر

چائے کا بل کون ادا کرے گا


سلمان صدیقی

No comments:

Post a Comment