کل شب تھا عجب دید کا منظر میرے آگے
دنیا تھی نہ ہونے کے برابر میرے آگے
جیسے متلاطم ہو سمندر میرے اندر
جیسے ہو کوئی ماہِ منور میرے آگے
اس وقت نہ تھی آنکھ جھپکنے کی بھی فرصت
اک شہرِ طلسمات تھا یکسر میرے آگے
اس وقت نہ تھا دل کو دھڑکنے کا بھی یارا
اِک عالمِ حیرت تھا سراسر میرے آگے
لائے کوئی مینائے مئے تند لپک کر
رکھ دے کوئی تعظیم سے ساغر میرے آگے
جیسے ہو میرے سامنے شداد کی جنت
جیسے ہو صنم خانہِ آذر میرے آگے
جیسے کوئی گل چہرہ پری چھم سے اتر آئے
اور رقص کرے ناز سے آ کر میرے آگے
شعلہ سا بدن زلف کی مخمل میں لپیٹے
جیسے ہو کوئی خواب سا پیکر میرے آگے
یوں جیسے کہ جادو سا جگاتا چلا جائے
اِک آفتِ جاں فتنہِ محشر میرے آگے
یاقوت سے لب سرو سا قد رات سی آنکھیں
وہ جانِ قیامت تھی میرے گھر میرے آگے
وہ کیفیتِ دل تھی کہ بہزاد کا فن کیا
حافظ کی غزل بھی تھی فرو تر میرے آگے
اے گردشِ دوراں ذرا آہستہ قدم رکھ
یہ ساعتِ گزراں ہے گھڑی بھر میرے آگے
اے موسمِ ہجراں ابھی کچھ دیر توقف
آنا ہے تو آ جانا ٹھہر کر میرے آگے
اے صبحِ جدائی ابھی رک جا کہ ستمگر
ایسے بھی نہ جاگے تھے مقدر میرے آگے
شاید کہ فراز آج کسی روپ نگر سے
آئی ہے قضا بھیس بدل کر میرے آگے
احمد فراز
No comments:
Post a Comment