Friday, 22 April 2022

ہر شخص اس ہجوم میں تنہا دکھائی دے

 ہر شخص اس ہجوم میں تنہا دکھائی دے 

دنیا بھی اک عجیب تماشا دکھائی دے 

اک عمر قطع وادیٔ شب میں گزر گئی 

اب تو کہیں سحر کا اجالا دکھائی دے 

اے موجۂ سرابِ تمنا!! ستم نہ کر 

صحرا ہی سامنے ہے تو صحرا دکھائی دے 

میں بھی چلا تو پیاس بجھانے کو تھا مگر 

ساحل کو دیکھتا ہوں کہ پیاسا دکھائی دے

الفاظ ختم ہوں تو ملے رشتۂ خیال

یہ گرد بیٹھ جائے تو رستہ دکھائی دے

کون اپنا عکس دیکھ کے حیراں پلٹ گیا

چہرہ یہ موج موج میں کس کا دکھائی دے

تُو مُنکرِ وفا ہے تجھے کیا دکھاؤں دل

غم شعلہ نہاں ہے بھلا کیا دکھائی دے

ہر شب در خیال پہ ٹھہرے وہ ایک چاپ

ہر شب فصیل دل پہ وہ چہرہ دکھائی دے

لب‌ بستگی سے اور کھلے غنچۂ صدا

وہ چپ رہے تو اور بھی گویا دکھائی دے

اسلم! غریب‌ِ شہرِ سخن ہے کبھی ملیں

کہتے ہیں آدمی تو بھلا سا دکھائی دے


اسلم انصاری

No comments:

Post a Comment