دیوانہ وار چومنے لگتا ہوں جا کے ہاتھ
بجلی سی دوڑ جاتی ہے اس سے ملا کے ہاتھ
اک اور ہی جہان دکھائی دیا ہمیں
آنکھوں پہ رکھے اس نے جو چپکے سے آ کے ہاتھ
لائی ہے خوشبو اس کی، اڑا کر ہوائے صبح
پیغامِ شوق بھیجا ہے اس نے صبا کے ہاتھ
دینے لگا رقیب کو جب بھی جواب میں
خاموش کر دیا مجھے اس نے دبا کے ہاتھ
اس حسنِ بے نیاز کا جب تذکرہ چلا
رکھتے چلے گئے سبھی دل پر اٹھا کے ہاتھ
کیا کیا عجب معانی نکالے گئے وہاں
دیوانِ دل لگا کسی نکتہ سرا کے ہاتھ
جب سے کیا ہے قصد تصور نے کوچ کا
اٹھے ہوئے ہیں تب سے مِرے دلربا کے ہاتھ
تصور سمیع
No comments:
Post a Comment