حقیقت آشنا میرے
ہمیں جیون کے رستوں پر کہاں تک ساتھ چلنا ہے
کہاں وہ موڑ ہے جس نے ہمیں تنہائی دینی ہے
کہاں تک تم مجھے تھامو گے جب گرنے لگوں گا میں
کہاں پر اس طرح ہو گا کہ تم مجھ کو نہ تھامو گے
تمہیں آواز دوں گا تم میری جانب نہ دیکھو گے
میں جیتا ہوں یا مرتا ہوں میرے بارے نہ سوچو گے
جنم دن پر کرو گے فون، نا ہی کارڈ بھیجو گے
سنو ساتھی
ہمیں جیون کے رستے پر جہاں تک ساتھ چلنا ہے
وہاں تک تم مجھے عادی کرو نہ اس طرح اپنا
کہ جب وہ موڑ آئے اور اپنی راہ میں جاؤں
تو اپنے راستے کو اجنبی اپنے لیے پاؤں
عاطف سعید
No comments:
Post a Comment