Thursday, 9 June 2022

رہائی کی بے سود خواہش

 رہائی کی بے سود خواہش


میرے کمرے کی کھڑکی کے باہر ہوا چیختی ہے

بڑا شور ہے

سیٹیاں بج رہی ہیں

چمک دھوپ کی بند کھڑکی کے شیشے سے اندر چلی آ رہی ہے

ہوائیں فضا میں بہے جا رہی ہیں

مِرے ہر طرف شور ہی شور ہے

مگر ایک بے نام بستی

مہیب اور پر شور سناٹوں سے جاں بہ لب ہے

کھڑکیاں کھول دو

یہ اونچی بہت اونچی دیواریں ڈھا دو

مجھے پنکھ دے کر ہوا میں اڑا دو

مجھے وادیوں کوہساروں چمن زاروں کی خوشبوؤں میں سما جانے دو

ہوا بن کے ہر سو بکھر جانے دو

مجھے اس سمندر کی گہرائیوں میں اتر جانے دو

میرے کمرے کی کھڑکی کے باہر ہوا چیختی ہے

بڑا شور ہے

سیٹیاں بج رہی ہیں

چمک دھوپ کی بند کھڑکی کے شیشے سے اندر چلی آ رہی ہے

ہوائیں فضا میں بہے جا رہی ہیں


نجمہ محمود

No comments:

Post a Comment