کبھی ہم اجنبی تھے
اور اکثر سوچتے تھے
کوئی ایسا بھی لمحہ آئے گا جب
ہمارے درمیاں حائل ہے جو دیوار
از خود گر پڑے گی
اور ہم دونوں
جو اک دوجے سے کہنا چاہتے ہیں
کہہ سکیں گے
اور اب جبکہ
ہمارے درمیاں حائل کوئی دیوار ہے
نہ اجنبیت ہے، نہ دوری ہے
تو ہم دونوں
فقط اک دوسرے کو دیکھ کر چپ ہیں
وہ ساری ان کہی باتیں، لبوں تک کیوں نہیں آتیں
یہ چپ کیا ہے؟
کہیں رستے میں دم لینے کی کوشش ہے
ہمارے درمیاں حائل نئی دیوار ہے کوئی
یا پھر یہ بھی
تعلق کی کوئی بے نام صورت ہے؟
یوسف خالد
No comments:
Post a Comment