Sunday, 3 July 2022

کچھ جو قاتل کا تبسم نمک افشاں ہوتا

 کچھ جو قاتل کا تبسم نمک افشاں ہوتا

کیا ہی پھیکا ہی مِرے زخموں سے نمکداں ہوتا

موت کا مجھ کو نہ کھٹکا شبِ ہجراں! ہوتا

میرے دروازے پر گر آپ کا درباں ہوتا

گر مِرے ہاتھ تِری بزم کا ساماں ہوتا

میزباں میں کبھی ہوتا کبھی مہماں ہوتا

عشق تاثیر جو کرتا تو نہ پنہاں ہوتا

رنج مِرا تِرے چہرے سے نمایاں ہوتا

دین و دنیا کے مزے جب تھے کہ دل دو ہوتے

ایک میں کفر اگر ایک میں ایماں ہوتا

دل کو آسودہ جو دیکھا تو انہیں ضد آئی

اس سے بہتر تو یہی تھا کہ پریشاں ہوتا

خلد میں بند رہے عیش کے سامان بے کار

لطف جب تھا کہ یہ مجموعہ پریشاں ہوتا

بے نیازی جو نہ ہوئی میری تمنا سے ہوئی

مجھ کو ارماں جو نہ ہوتا تجھے ارماں ہوتا

عشق کچھ کھیل نہیں اے دل آرام طلب

سیکھنا تھا تجھے وہ کام جو آساں ہوتا

کیا غضب ہے نہیں انسان کو انسان کی قدر

ہر فرشتے کو یہ حسرت ہے کہ انساں ہوتا

حشر کے روز تجھے پاس عدالت ہو گا

بخش دیتا جو یونہی جرم تو احساں ہوتا

ہم پڑھ لیتے ہیں کلمہ بتِ کافر! سن لے

تُو نے دیکھا ہی نہیں کوئی مسلماں ہوتا

اے فلک! ہجر میں گھنگھور گھٹا چھائی ہے

دامنِ ابر بھی میرا ہی گریباں ہوتا

ذبح کے بعد مجھے لطف خلش رہ جاتا

کاش خنجر میں تِرے تیر کا پیکاں ہوتا

مرض عشق طبیبوں نے بہت الجھایا

آخر کار یہ آزار ہی درماں ہوتا

ایک مدت سے ہے عادت مجھے تنہائی کی

پاس فردوس کے سنسان بیاباں ہوتا

شکر کرتا ہوں ملی نعمتِ غم کھانے کو

آج فاقہ ہی مجھے اے شبِ ہجراں! ہوتا

ہو گئی بارِ گراں بندہ نوازی تیری

تُو نہ کرتا اگر احسان تو احساں ہوتا

بے تلاشی لیے رہتا نہ کبھی دست جنوں

گر مِری جیب کے اندر بھی گریباں ہوتا

داغ! کو ہم نے محبت میں بہت سمجھایا

وہ کہا مان نہ لیتا اگر انساں ہوتا


داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment