Sunday, 3 July 2022

اپنی گزری نہ کسی حال بھی آرام کے ساتھ

 اپنی گزری نہ کسی حال بھی آرام کے ساتھ

خود بھی گردش میں رہے گردشِ ایام کے ساتھ

بادہ نوشی ہو بڑے چین سے آرام کے ساتھ

چشمِ ساقی بھی جو گردش میں رہے جام کے ساتھ

ہم تِری زُلف گِرہ گیر سے کُھل کھیلیں گے

عمر گزری ہے ہماری قفس و دام کے ساتھ

تیرگی جتنی بڑھی، اُتنے ہی چمکے آنسو

روشنی میرے چراغوں کی بڑھی شام کے ساتھ

وہ مِرا دل تھا یہ مے خانے کا دل ہے ظالم

محتسب مان بھی جا ظلم نہ کر جام کے ساتھ

میری رُسوائی میں ناداں! تِری رُسوائی ہے

نام تِرا بھی عبارت ہے میرے نام کے ساتھ

یہ الگ بات کہ محرومِ نظارہ تھی نظر

اِک تعلق تو رہا تیرے در و بام کے ساتھ

یہ کرم کم ہے کہ وہ یاد کریں تجھ کو نصیر

پیار سے اب ہو تِرا ذکر، کہ دُشنام کے ساتھ


سید نصیرالدین نصیر

No comments:

Post a Comment