اور اب کیا چاہیے ہم سے کہو، تاوان میں
روح تک تو ڈال دی ہے تجھ بُتِ بے جان میں
آپ کے اندر کی کالک کھا گئی ہے آپ کو
لوگ سونا ہو گئے ہیں کوئلے کی کان میں
روشنی کا فیصلہ کرنے چلے ہیں، دیکھیے
شہر کے اندھے کباڑی بیٹھ کر ایوان میں
کیا خبر، کس وقت دونوں زندگی کرنے لگے
وہ ہمارے ذہن میں دھڑکے ہم ان کے دھیان میں
آدھا کفنایا ہوا ہوں،۔ آدھا دفنایا ہوا
دن گزارا دوستوں میں رات قبرستان میں
کیا ہوا جو آپ جیسے شعر کہہ پائے نہيں
دوسروں کا مال تو باندھا نہيں سامان میں
ہر گزرتے شخص پر آواز کَسنے لگ پڑوں
کیا سجا کر بیٹھ جاؤں، آئینے دوکان میں؟
سب کے سب ہی دوست ہیں ابہام کے مارے ہوئے
کام کا اِک شعر تو ہوتا مِرے دیوان میں
جاتے جاتے اِک دعا کرتے چلیں، میرے لیے
فائدوں پر دل گرفتہ، خوش رہوں نقصان میں
عمران عامی
No comments:
Post a Comment