Wednesday, 13 July 2022

میں نے کہا کہ چاند ہے اس نے کہا چہرہ مرا

 گفتم کہ روشن از قمر گفتا کہ رخسار منست

گفتم کہ شیریں از شکر گفتا کہ گفتار منست

میں نے کہا کہ چاند ہے اس نے کہا چہرہ مرا

میں نے کہا شیرین دہن اس نے کہا لہجہ مرا

گفتم طریق عاشقان گفتا وفاداری بود

گفتم مکن جور و جفا، گفتا کہ این کار منست

میں نے کہا طرزِ جنوں اس نے کہا سہرا مرا

میں نے کہا جور وجفا اس نے کہا شیوہ مرا

گفتم کہ مرگِ ناگہاں، گفتا کہ درد ہجر من

گفتم علاج زندگی، گفتا کہ دیدار منست

میں نے کہا مرگ سریع اس نے کہا نخرا مرا

میں نے کہا جیون شفا اس نے کہا جلوہ مرا

گفتم کہ حوری یا پری ، گفتا کہ من شاهِ بتاں

گفتم کہ خسرو ناتوان گفتا پرستار منست

میں نے کہا حور و پری، اس نے کہا خاصہ مرا

میں نے کہا خسرو نحیف اس نے کہا شیدا مرا


امیر خسرو

No comments:

Post a Comment