گفتم کہ روشن از قمر گفتا کہ رخسار منست
گفتم کہ شیریں از شکر گفتا کہ گفتار منست
میں نے کہا کہ چاند ہے اس نے کہا چہرہ مرا
میں نے کہا شیرین دہن اس نے کہا لہجہ مرا
گفتم طریق عاشقان گفتا وفاداری بود
گفتم مکن جور و جفا، گفتا کہ این کار منست
میں نے کہا طرزِ جنوں اس نے کہا سہرا مرا
میں نے کہا جور وجفا اس نے کہا شیوہ مرا
گفتم کہ مرگِ ناگہاں، گفتا کہ درد ہجر من
گفتم علاج زندگی، گفتا کہ دیدار منست
میں نے کہا مرگ سریع اس نے کہا نخرا مرا
میں نے کہا جیون شفا اس نے کہا جلوہ مرا
گفتم کہ حوری یا پری ، گفتا کہ من شاهِ بتاں
گفتم کہ خسرو ناتوان گفتا پرستار منست
میں نے کہا حور و پری، اس نے کہا خاصہ مرا
میں نے کہا خسرو نحیف اس نے کہا شیدا مرا
امیر خسرو
No comments:
Post a Comment