Wednesday, 7 September 2022

سبیل شاہ لگا کر مزید رونا ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر شہدائے کربلا


سبیلِ شاہؑ لگا کر مزید رونا ہے

کسی کی پیاس بُجھا کر مزید رونا ہے

جلوس میں تھا سو اک یاد آ گیا منظر

زمیں سے پھول اٹھا کر مزید رونا ہے

تمام رات تِرے غم میں رونے والوں نے

ابھی چراغ بُجھا کر مزید رونا ہے

خیال کرنی ہے بھائیؑ سے بھائیؑ کی رخصت

علَم علَم سے ملا کر مزید رونا ہے

جو تجھ سے دور ندامت میں رو رہا ہے اسے

تِری پناہ میں آ کر مزید رونا ہے


تجمل کاظمی

No comments:

Post a Comment