عارفانہ کلام منقبت سلام بر فاطمہ زہراؑ
ہو نہیں سکتی رقم بنتِؑ شہِ بطحاؐ کی شان
کیا بیاں ہو قطرۂ ناچیز سے دریا کی شان
ایک ذرہ کیا احاطہ کر سکے خورشید کا
ایک ادنیٰ کیا سمجھ سکتا ہے ایک اعلیٰ کی شان
ہے میرے پیشِ نظر اس ذات کا ذکرِ بلند
پست ہو جاتی ہے جس کے سامنے دنیا کی شان
بضعۃ منی کہیں جس کو رسولِؐ اِنس و جاں
اس سے بڑھ کر اور کیا ہو اس دُرِ یکتا کی شان
جس کی آمد پر کھڑے ہوں خود امام الانبیاء
دیکھیے چشم نبّوتؐ میں ذرا زہراؑ کی شان
چال میں حُسن خرام احمدیﷺ کا بانکپن
والضحٰی سے ملتی جلتی چہرۂ زیبا کی شان
اہل محشر جس کی آمد پر رکھیں نیچی نظر
کس قدر اونچی ہے اس شہزادئ والاؑ کی شان
عائشہؓ سے پوچھ جا کر رُتبۂ اُم الحسنؑ
پُوچھ صدیقؓ و عمرؓ سے لا فتی الا کی شان
یہ خواتینِ جہانِ نو بھلا سمجھیں گی کیا
مریم و حوّا سے پوچھو زینبِ کُبریٰؑ کی شان
ذہن محوِ یادِ حق، دل جورِ اعداء سے غنی
دیدنی تھی کربلا میں ثانئ زہراؑ کی شان
تیری اس بیٹیؑ کا وہ خطبہ، وہ دربارِ دمشق
علم ناناؐ کا، خطابت سے عیاں بابا کی شان
مرتبہ حیدرؑ کا بتلائیں تو بتلائیں حسینؑ
اک تقی پہچان سکتا ہے کسی اتقیٰ کی شان
ہے جہاں میں بے عدیل و بے مثال و بے مثیل
ضرب حیدرؑ کی، محمدﷺ کی سخا، زہراؑ کی شان
جب بنی بنتِ محمدﷺ والدہ سبطین کی
چشمِ انساں میں دوبالا ہو گئی ممتا کی شان
مرحبا زہراؑ تیرا زوجِ گرامی بُو ترابؑ
خاک میں جس نے مِلا دی قیصر و کسریٰ کی شان
پڑ گئے تھے آبلے ہاتھوں میں چکی پیستے
بھوک کی شدت سے پتھر پیٹ پر، مولا کی شان
اولیاء و اصفیا کے روپ میں ظاہر ہوئی
سیدہ زہراؑ تیرے ایک ایک نقشِ پا کی شان
باقرؑ و شبیّرؑ و شبّرؑ زینبؑ و زین العبادؑ
مرحبا کیا اوج پر ہے عِترتِ زہراؑ کی شان
وہ تو تیرے مہ پاروں نے لگائے چار چاند
ورنہ کیا کربل کے اک تپتے ہوئے صحرا کی شان
سجدۂ حیرت میں ہے اب تک جہانِ ساجدین
دیکھ کر تیرے پِسر کے سجدۂ اُولیٰ کی شان
جب سوا نیزے پہ آ جائے گا سورج مُنکرو
اس گھڑی تم پر کُھلے گی چادرِ زہراؑ کی شان
فاطمہؑ ماں ہے اسی مردِ جری کی اے نصیر
لشکرِجرار پر حاوی تھی جس تنہا کی شان
سید نصیرالدین نصیر
No comments:
Post a Comment