عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میں تصور میں مدینے کی طرف جاتا ہوں
اور ہر روز مدینے کی ہوا کھاتا ہوں
کتنی ٹھنڈک ہے مدینے کی فضاؤں میں تو
روح اپنی ہے جو سرشار اسے پاتا ہوں
اور محمدﷺ کی یہ سیرت کا اجالا ہے جو
میں مدینے میں اسے ہر جگہ ہی پاتا ہوں
نظروں کے سامنے احمدؐ کا ہو جب بھی روضہ
پھر تو آنکھوں سے محبت میں تو برساتا ہوں
اور مٹا دوں میں خودی عشق محمدﷺ میں تو
بس اسی ایک ہی منشا کے لیے روتا ہوں
یہ عادل کی ہے خواہش کہ کھو جائے جا کر
جب بھی جاؤں میں مدینے میں تو یہ پاتا ہوں
عزیز عادل
No comments:
Post a Comment