Saturday, 17 September 2022

میں تصور میں مدینے کی طرف جاتا ہوں

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


میں تصور میں مدینے کی طرف جاتا ہوں

اور ہر روز مدینے کی ہوا کھاتا ہوں

کتنی ٹھنڈک ہے مدینے کی فضاؤں میں تو

روح اپنی ہے جو سرشار اسے پاتا ہوں

اور محمدﷺ کی یہ سیرت کا اجالا ہے جو

میں مدینے میں اسے ہر جگہ ہی پاتا ہوں

نظروں کے سامنے احمدؐ کا ہو جب بھی روضہ

پھر تو آنکھوں سے محبت میں تو برساتا ہوں

اور مٹا دوں میں خودی عشق محمدﷺ میں تو

بس اسی ایک ہی منشا کے لیے روتا ہوں

یہ عادل کی ہے خواہش کہ کھو جائے جا کر

جب بھی جاؤں میں مدینے میں تو یہ پاتا ہوں


عزیز عادل

No comments:

Post a Comment