Monday, 17 October 2022

دل کو اس دل سے ملانے کی ضرورت کیا تھی

 دل کو اس دل سے ملانے کی ضرورت کیا تھی 

خود کو اس طرح مٹانے کی ضرورت کیا تھی 

لوگ جس موڑ پہ گرتے ہی بکھر جاتے ہیں 

خود کو اس موڑ پہ لانے کی ضرورت کیا تھی

جن چراغوں کو ہواؤں سے بڑی تھی رغبت 

ان چراغوں کو بجھانے کی ضرورت کیا ہے

تیری ناراضگی برداشت نہیں ہے جس کو

ہاتھ پھر اس پہ اٹھانے کی ضرورت کیا تھی

تیرے کردار سے پہچان تِری ہو جاتی 

مِری تصویر دکھانے کی ضرورت کیا تھی

بوجھ اک دل کا اٹھایا نہیں جاتا مجھ سے 

دل تمہیں مجھ سے لگانے کی ضرورت کیا تھی

میں وہ آنسو ہوں جو آنکھوں کو دغا دیتا ہوں

مجھ کو پلکوں پہ بٹھانے کی ضرورت کیا تھی

💞میں تو ہر راز تیرا جان رہا تھا اے دل 

پھر غزل مجھ کو سنانے کی ضرورت کیا تھی


دل سکندر پوری 

No comments:

Post a Comment