دل کو اس دل سے ملانے کی ضرورت کیا تھی
خود کو اس طرح مٹانے کی ضرورت کیا تھی
لوگ جس موڑ پہ گرتے ہی بکھر جاتے ہیں
خود کو اس موڑ پہ لانے کی ضرورت کیا تھی
جن چراغوں کو ہواؤں سے بڑی تھی رغبت
ان چراغوں کو بجھانے کی ضرورت کیا ہے
تیری ناراضگی برداشت نہیں ہے جس کو
ہاتھ پھر اس پہ اٹھانے کی ضرورت کیا تھی
تیرے کردار سے پہچان تِری ہو جاتی
مِری تصویر دکھانے کی ضرورت کیا تھی
بوجھ اک دل کا اٹھایا نہیں جاتا مجھ سے
دل تمہیں مجھ سے لگانے کی ضرورت کیا تھی
میں وہ آنسو ہوں جو آنکھوں کو دغا دیتا ہوں
مجھ کو پلکوں پہ بٹھانے کی ضرورت کیا تھی
💞میں تو ہر راز تیرا جان رہا تھا اے دل
پھر غزل مجھ کو سنانے کی ضرورت کیا تھی
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment