کچھ کاغذی لباس تھے اور حاشیے چراغ
محرابِ حرف و شعر میں ہم نے دھرے چراغ
کل رات ایک شخص کسی دائرے میں تھا
اور رات بھر بناتے رہے دائرے چراغ
سنتا رہا میں بیٹھ کے نصرت کی اک غزل
اس شام میری آنکھ میں جلتے رہے چراغ
میں درمیاں کھڑا رہا دیوار کی طرح
پیچھے ہوا کا شور تھا اور سامنے چراغ
دستک غموں کی کھا گئی صد رنگِ کشتِ خواب
اور طاقچے میں نیند کے رکھے گئے چراغ
پلکوں پہ آنسوؤں کی یہ جھلمل نہ پوچھیے
دیکھے نہیں منڈیر پہ جلتے ہوئے چراغ
آرام کی طلب میں چلے دار کی طرف
عجلت میں بجھنے والے بھی ایسے نہ تھے چراغ
ایسے کئی گناہ کسی آنکھ سے ہوئے
بے دام ہو گئے ہیں یہ اچھے بھلے چراغ
جب بولنے کا وقت تھا اک لفظ تھا محال
آنکھوں سے پھر قطار کی صورت گِرے چراغ
اس روشنی میں آنکھ بھی گم ہو گئی سہیل
اتنی حسین لویں تھیں اور اتنے بھلے چراغ
سہیل رائے
No comments:
Post a Comment