Wednesday, 7 December 2022

کوئی بھی واسطہ دے کر کسی در پے نہیں آتے

 کوئی بھی واسطہ دے کر کسی در پے نہیں آتے

تمہیں ویسے بتاؤں میں، مجھے ترلے نہیں آتے

دریدہ پیرہن ہے، اور سبب کچی ہیں دیواریں

ہمارے ہاں کبھی مہماں کسی گھر سے نہیں آتے

قدر کوئی نہیں کرتا محبت کی، حقیقت ہے

اگر میں کام دوں طلبہ کو تو کر کے نہیں آتے

یقیں جانو دکاں یادوں کی جب سے اس کی چھوڑی ہے

سسکنے کے، تڑپنے کے سو اب خرچے نہیں آتے

تمہاری شرط ہے یہ، باپ سے پہلے وراثت لوں

مِرے حصے میں تو اے یار! دو مرلے نہیں آتے


نشاط عبیر

No comments:

Post a Comment