پہنچے تو میرے غم کی صدا تیرے شہر میں
روئے گی تیرے ساتھ گھٹا تیرے شہر میں
آخر مِری دعاؤں میں تاثیر کیوں نہیں
کیا سو گیا ہے میرا خدا تیرے شہر میں
اک فاصلہ ہے جب کہ تِرے میرے درمیان
میں کیا کروں گی آ کے بتا تیرے شہر میں
برف اوڑھ کر پہاڑوں سے اترے گی ڈھونڈنے
تجھ کو اداس اداس ہوا تیرے شہر میں
تجھ سے ملی تو ٹوٹ گیا عمر بھر کا خواب
اب میں ہوں زندگی سے جدا تیرے شہر میں
دھرتی پہ جب بھی ٹپکے گا نسرین کا لہو
ہو گی لہو لہو سی فضا تیرے شہر میں
نسرین نقاش
No comments:
Post a Comment