Friday, 2 December 2022

یہ وہ دن نہیں کہ لبان سرخ کی بات ہو

 یہ وہ دن نہیں کہ لبانِ سُرخ کی بات ہو

یہ وہ دن نہیں کہ طوافِ زُلف میں رات ہو

یہ وہ دن نہیں کہ غزل کا رنگ سجاؤں میں

یہ وہ دن نہیں کہ کسی کو ہنس کے بُلاؤں میں

یہ وہ دن نہیں کہ کسی خوشی کا خیال ہو

یہ وہ دن نہیں کہ مجھے کسی کا سوال ہو

یہ وہ دن ہیں جن میں اُداسیوں کا قیام ہے

یہ وہ دن ہیں جن کے طلوع میں کوئی شام ہے

میں اگر ملال میں ہوں، ملال پہ چھوڑ دے

تُو چمک دمک مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے

تُو شریکِ غم جو نہیں تو کوئی گِلہ نہیں

یہ نصیب ہے جو کسی کو کہہ کے ملا نہیں

انہی آنسوؤں کے وضو میں بات کروں گا میں

اسی غم میں فجر کروں گا رات کروں گا میں

مجھے اِن دنوں کی اداسیوں کی قسم علی

ہے غمِ حسینؑ تو پھر نہیں کوئی غم علی


علی زریون

No comments:

Post a Comment