Sunday, 9 April 2023

ضرب تقسیم نوازی سے الجھ بیٹھی ہوں

 ضربِ تقسیم نوازی سے اُلجھ بیٹھی ہوں

اک عجب طرزِ ریاضی سے الجھ بیٹھی ہوں

اس کی ہر بات میں ہوتے ہیں ہزاروں معنی

میں بھی گُفتار کے غازی سے الجھ بیٹھی ہوں

دامنِ حال مکدّر ہی نہ کر دے پھر سے

کیوں غبارِ رہِ ماضی سے الجھ بیٹھی ہوں

بے رخی بھی تِری دکھلائی، بہت سمجھایا

کیا کروں میں دلِ راضی سے الجھ بیٹھی ہوں

پارساؤں کی کوئی ایک گواہی لا دو

آج بُہتان طرازی سے الجھ بیٹھی ہوں

صائمہ پست کئے دیتا ہے قامت میری

اس کے شملے کی فرازی سے الجھ بیٹھی ہوں


صائمہ اسحاق

No comments:

Post a Comment