Sunday, 9 April 2023

تم وسعت بے انت جہاں سر نہاں ہو

 عارفانہ کلام، حمد، نعت، منقبت


 تم وسعتِ بے انت جہاں سرِ نہاں ہو

تم کوئی حقیقت بھی ہو یا ویسے گماں ہو

میں ڈار سے بچھڑے ہوئے پنچھی کی طرح ہوں

تم اس کے لیے چلتی ہوا، پھیلا جہاں ہو

میں شام کے منظر میں ہوں تحلیل شدہ اور

تم دور کسی گاؤں کی مغرب کی اذاں ہو

میں گوشہ نشیں بوڑھے کی ماتھے کی جھری ہوں

تم اس کے لیے رزق خدا سر پہ اماں ہو

میں چلنے سے پہلے کا کوئی تیر ہوں رکھا

تم مجھ کو چلانے کے لیے کوئی کماں ہو

میں پھیلے ہوئے دشت کی بے انت فضا ہوں

تم چھوڑے ہوئے لوگوں کا ویران مکاں ہو


زاہد خان 

No comments:

Post a Comment