عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
محرابِ عقیدت میں گہر بار ہیں آنکھیں
یہ کس نے کہا مفلس و نادار ہیں آنکھیں
اتنی بھی خبر تم کو ستارو نہیں اب تک
کس خاکِ منور کی طلبگار ہیں آنکھیں
دامن ہے تہی، پھر بھی، سرِ بزمِ تمنا
ہر عکسِ محبت کی خریدار ہیں آنکھیں
ہر روز حضوری کے مزے لیتے ہیں پہروں
برسوں سے ہماری سرِ انوار ہیں آنکھیں
طائف کا وہ دن آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا
اندر کے بھی انسان کی بیدار ہیں آنکھیں
انوار بصیرت کے بھی دیں دستِ ہنر میں
دہلیز پہ نم سیدِ ابرارﷺ! ہیں آنکھیں
ہر اشک میں رکھتا تھا دیے نعت کے روشن
شاعر کی لحد میں بھی ضیا بار ہیں آنکھیں
سر سبز یہ رہتی ہیں چمن زارِ ثنا میں
پھولوں میں رکھوں تو گلِ بے خار ہیں آنکھیں
سورج کی تمازت سے کسے خوف ہے، ہمدم
منٹھار ہیں، منٹھار ہیں، منٹھار ہیں آنکھیں
اشکوں سے خطاؤں کے بھی دُھل جاتے ہیں پیکر
بخشش کے چمکتے ہوئے آثار ہیں آنکھیں
جو نامِ نبیؐ سن کے چھلکنے سے ہیں قاصر
سمجھو کہ وہ بدبخت ہیں، بیمار ہیں آنکھیں
اس عالمِ رویا میں ریاض آج کی شب بھی
صد شکر مِری حاضرِ دربار ہیں آنکھیں
سو بار میں چوموں گا ریاض اسمِ گرامی
قدرت کا عطیہ ہیں، یہ شہکار ہیں آنکھیں
ریاض حسین چودھری
No comments:
Post a Comment