اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے
جانتا ہوں یہ وقتی موسم ہے
پیار کی کونپلیں بھی پھوٹیں گی
دل کی دھرتی اگر ذرا نم ہے
چاندنی میرے گھر نہیں آتی
وقت کا کچھ مزاج برہم ہے
روکنا فرض ہے مظالم کو
جب تلک دم میں آپ کے دم ہے
بھول جاتے ہیں سب گلے شکوے
دل سے دل کا جو ہوتا سنگم ہے
وقت پڑنے پہ انکشاف ہوا
زخم پر کون رکھتا مرہم ہے
حق کا جینا حرام ہے زاہد
سارے عالم میں ایسا عالم ہے
تجمل حسین زاہد
No comments:
Post a Comment