عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
رقم کرتا ہے سعدی وصف کچھ اپنے پیمبر کا
پیمبرﷺ جو ازل سے ہیں، حبیب اللہ اکبر کا
پیمبر یوں تو آئے ہیں بہت سے اس خرابے میں
مگر عاصی کی خاطر ہے، وہی شافع محشر کا
نبیوں کو وصیوں کو فخر ہے فخرِ احمدﷺ پر
بتاؤ تو سہی، حیدرؑ سا وصی ہے کس پیمبر کا
کہیں نورِ مجسم اور کہیں جسمِ منور ہے
زمیں پر سایہ ہو ظاہر نہ، جس کے جسمِ اطہر کا
اگر پیدا نہ کرتا اے محمدﷺ تجھ کو عالم میں
نشاں ظاہر نہ پھر ہوتا فلک میں ماہ و اختر کا
یہ ایک آیت فقط بھاری ہے کل آیاتِ فرقاں میں
کہا لولاک آیت میں، یہ ہے ارشاد داور کا
شفاعت جس کی جھولی میں رکھا ہے روزِ محشر وہ
وہی رضوان کا مالک، وہی آقاﷺ ہے احقر کا
ولایت پنجتن کی تن و من سے جب کیا تُو نے
فضل پائے گا تُو لے کر فضائل خُلق سرور کا
پڑھو صل علیٰ سعدی، محمدﷺ اور احمدﷺ پر
چھپا ہے حمد جس کے اِسم میں اللہ اکبر کا
سعداللہ سعدی
No comments:
Post a Comment