مرنے سے بھی پہلے مر گئے ہیں
زندگی سے کچھ ایسے ڈر گئے ہیں
ملے ہیں زمانے سے گھاؤ ایسے
اب اپنے ہی سائے سے ڈر گئے ہیں
اک عمر سے دیکھ رہے تھے جو
وہ خواب سارے بکھر گئے ہیں
اپنی آرزو کی لاش لیے کاندھے پر
یہاں سے وہاں بھٹک رہے ہیں
امیرِ شہر کو دو یہ خبر
بچے غیب کے بھوک سے مر گئے
حنا علی
No comments:
Post a Comment