زندگی کے اس سفر میں حادثہ کچھ بھی نہیں
ٹوٹ کر بکھرے تھے کتنے پر ہوا کچھ بھی نہیں
ہو گیا نم خود بخود ہی سادہ لمحوں کا ورق
تجھ کو لکھنا تھا بہت کچھ پر لکھا کچھ بھی نہیں
کون مجھ میں جھیلتا ہے خامشی سے کرب جاں
کوئی اندر ٹوٹتا ہے پر صدا کچھ بھی نہیں
کس قدر تھا برق پا یہ اڑتے لمحوں کا سفر
منزلوں کی گرد تھی اس کے سوا کچھ بھی نہیں
دیکھتے تھے اپنا چہرہ عکس اندر عکس ہم
ہر پس منظر میں آصف کیا ملا کچھ بھی نہیں
آصف دسنوی
No comments:
Post a Comment