وہ غم کے استعارے ہیں
عزادارو
کوئی بھی درد
ان کے صبر سے سچا نہیں
کسی بھی خون کا رنگ
وہاں بیتی ہوئی شاموں سے تو
گہرا نہیں
الم کی داستانِ تطہیر
کہ جس نے زندگی کو کرب کے معنی سکھائے
جہاں پہ کوئی خیمہ
آگ میں پانی نہیں پیتا
عزادارو
تمہیں معلوم ہی کب ہے
اب اس کے بعد ہے
شرمندہ ساحلِ فرات
خدا پہ قرض ہے اب
کربلاؤں کا
کہ اس نے صبر کے
اور جبر کے
سارے اشارے چُن لیے
اور ان کے استعاروں سے
جہاں میں
غم کو کاندھا دے دیا
فاطمہ مہرو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
No comments:
Post a Comment