Wednesday, 5 July 2023

تیور جو اسیروں کے بگڑے صیاد کی ہمت چھوٹ گئی

 تیور جو اسیروں کے بگڑے، صیاد کی ہمت چھوٹ گئی

اے ذوقِ جنوں! تیرے صدقے، زنجیرِ غلامی ٹوٹ گئی

باندھے ہوئے اپنے سر سے کفن، نکلے جو فداکارانِ وطن

صیاد کا زہرا آب ہوا،۔ نبض اہلِ وفا کی چھوٹ گئی

گلزارِ وطن آباد ہوا،۔ ہر سر وِ چمن آزاد ہوا

رخصت وہ ستم ایجاد ہوا، وہ قہر گیا، وہ لوٹ گئی

مل جل کے کرو تعمیرِ وطن، ایسا نہ ہو طعنے دیں دشمن

ساجھے کی پکائی تھی ہنڈیا، چوراہے پہ آخر ٹوٹ گئی


اقبال سہیل

No comments:

Post a Comment