دکھلا رہے ہو لطف بہار و خزاں تمہیں
گل ہو تمہیں چمن ہو تمہیں باغباں تمہیں
آنکھوں میں مثل رنگ چمن ہو عیاں تمہیں
دل میں ہو بُوئے گل کی طرح سے زباں تمہیں
کیسا حجاب کہتے ہیں دنیا میں کس کو حسن
در پردہ لے رہے ہو مِرا امتحاں تمہیں
دیر و حرم بھرے ہیں تمہارے ہی ذکر سے
دونوں جگہ ہو باعث شور و فغاں تمہیں
دریائے غم میں ڈوبنے دو گے کسی کو کب
ہو ناخدائے کشتی بے بادباں تمہیں
کس سے کہوں تمہارے سوا اپنے دل کی بات
میرے تو ہو انیس، تمہیں رازداں تمہیں
ہم جانتے ہیں صفحۂ ہستی سے رات دن
ہر ایک کا مٹاتے ہو نام و نشاں تمہیں
اب جسم و جاں کو بھی نہیں پہچانتا وحید
رہتے ہو اس کے جسم میں مانند جاں تمہیں
وحید الہ آبادی
وحیدالدین احمد
No comments:
Post a Comment