بازوؤں میں زرا سنبھال مجھے
اپنے سانچے میں آج ڈھال مجھے
ہو رہی ہوں میں تجھ سے دور بہت
میری جانب زرا اچھال مجھے
ہجر بھاری ہی رہا مجھ پر
خیمۂ جاں سے اب نکال مجھے
ڈال کر اک نظر محبت کی
گر گیا ان نے وہ بحال مجھے
اب زمانہ صفی وفاؤں میں
دے رہا ہے میری مثال مجھے
سفینہ چودھری
سفینہ سلیم صفی
No comments:
Post a Comment