شعورِ زیست کو ایسا جگا دیا تم نے
دل و نگاہ کو مؤمن بنا دیا تم نے
نقاب اُٹھائی جو رُخ سے تو کُھل گیا سب کچھ
ہر ایک پردہ نظر سے اُٹھا دیا تم نے
جمال اپنا دکھا کر جمالِ یوسف کو
دل و دماغ سے یکسر بُھلا دیا تم نے
نہیں ہے دل میں کوئی دوسرا تمہارے سوا
ہر ایک نقش دوئی کا مٹا دیا تم نے
بلند کر دیا معیار اتنا نظروں کا
نظر سے دونوں جہاں کو گرا دیا تم نے
تمام عالمِ ہستی ہے غرق مستی میں
نہ جانے کون سا ساغر پلا دیا تم نے
جنونِ عشق و محبت میں مبتلا کر کے
مجھے جہاں میں تماشا بنا دیا تم نے
خوشا یہ حسن و جمال و زہے یہ جاہ و جلال
بلند بلند سروں کو جھکا دیا تم نے
کرے جو شکر تو محمود کس زباں سے کرے
کہ اپنی راہ پہ اُس کو لگا دیا تم نے
سید ابوالفضل محمود قادری
No comments:
Post a Comment