عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
لو حیدریو واردِ مجلس ہوئیں زہراؑ
دو فاطمہؑ کی رُوح کو عباسؑ کا پُرسا
اب تک نہیں کفنائے گئے ہیں شہؑ والا
بے گور ہے سردار و علمدار کا لاشا
رونے نہیں دیتے ہیں عدو آلِ نبیؐ کو
تم سب کے عوض روؤ حسینؑ ابنِ علیؑ کو
خاموش دبیر! اب کہ نہیں نظم کا یارا
مداح کا دل خنجر غم سے ہے دو پارا
کافی پئے بخشش یہ وسیلہ ہے ہمارا
اک ہفتے میں تصنیف کیا مرثیہ سارا
تجھ پر کرم خاص ہے یہ حق کے ولی کا
یہ فیض ہے سب مدح جگر بند علیؑ کا
مرزا دبیر
سلامت علی دبیر
No comments:
Post a Comment