خبر نہیں ہے کہاں کب کسی کو لگ جائے
تمہارے ہجر کی دیمک ہنسی کو لگ جائے
یہ بد دُعا کی طرح عشق بھی مصیبت ہے
جو اس سے جان چُھڑائے اسی کو لگ جائے
بُرے دنوں میں بھلی ساعتیں چُرا لانا
برائی ہے تو خدایا سبھی کو لگ جائے
بتا رہی ہے بچھڑنے کی آ گئی ہے گھڑی
دعا ہے آگ تمہاری گھڑی کو لگ جائے
ہمیں تو یوں بھی بہت کم طلب ہے جینے کی
ہماری عمر اسی شاعری کو لگ جائے
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment