Monday, 9 October 2023

دسترس میں نہ ہوں حالات تو پھر کیا کیجئے

 دسترس میں نہ ہوں حالات تو پھر کیا کیجئے

وقت دکھلائے کرشمات تو پھر کیا کیجئے

صاحبِ وقت ہیں جو ان کی طبیعت چاہے

ظلم کو کہہ دیں مکافات تو پھر کیا کیجئے

ہم نے رو لیں ہیں گہر اشکِ ندامت کے بہت

ہوں نہ منظور یہ سوغات تو پھر کیا کیجیے

تیرگئ غم ہستی کا تسلسل ٹوٹے

چلیے یہ کٹ بھی گئی رات تو پھر کیا کیجئے

زندہ رہنے کے لیے شرط تحمّل ٹھہری

اس پہ قائل نہ ہوئی ذات تو پھر کیا کیجئے

زیست کے لمحوں رکھا ہے سجا کر شاعر

مانگ لے کوئی حسابات تو پھر کیا کیجئے


سید مجتبیٰ داودی

No comments:

Post a Comment