جذبۂ شوق جو انسان میں بیدار ہوا
قوم کا مونس و ہمدرد وہ غمخوار ہوا
فطرتِ نوع کہ آخر وہ شجر سوکھ گیا
اک ذرا وقت سے پہلے جو ثمر بار ہوا
اپنی اوقات دکھائے گا ہی مخلوط نسل
شخص جو رہبرِ ملت ہوا، سرکار ہوا
علم رکھ کر بھی جہالت نہیں جاتی ہرگز
شاہ، افسر ہوا، یا قوم کا معمار ہوا
معتبر کون ہے یہ وقت بتا دیتا ہے
شاعرِ گوہر گمنام جو بیکار ہوا
گوہر رحمٰن
گہر مردانوی
No comments:
Post a Comment