کشمیراں
مائے
میں کشمیراں
تیری لاڈلی بیٹی پنج بھرائی
بھول گئی کیا
جب چاچوں نے ابا کو
بٹوارے پر مجبور کیا تھا
مانا میں بچی تھی پھر بھی
تجھ سے گود کہاں مانگی تھی
میں بھی تیری انگلی تھامے پیّاں پیّاں چل سکتی تھی
پھر کیوں بوجھ سمجھ کر مجھے
شریکنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا
میں تو کلمہ گو تھی پھر بھی
بہمن کے پلّے سے مجھ کو باندھ دیا تھا
اگنی کے یہ پھیرے کس نے دئیے تھے مجھ کو
ساتوں چکر مائے میں نے
بے ہوشی میں کاٹے تھے
وہ اکہتر کا سن اب تک یاد ہے مجھ کو
جس میں میرا پنجواں ویر
شریکنیوں کے بہکاوے میں آ کر گھر سے بھاگا تھا
تب سے مجھ کو دل کے دورے پڑتے ہیں
خیر ہو شالا
میری خیر خبر کی خاطر کیوں نہیں آتی
تو نہیں آتی تو چل
میرے وِیروں کو تو بھیج دیا کر
رانا سعید دوشی
No comments:
Post a Comment