اپنی دنیائیں ہیں، اپنے دستور ہیں
ہم تِری دسترس سے بہت دور ہیں
جان لیوا مشقت پہ مامور ہیں
ہم محبت کی بھٹی کے مزدور ہیں
تُو جفا کار ہے، ہم وفا کیش ہیں
تُو بھی مجبور ہے، ہم بھی مجبور ہیں
تُو بڑی ہی سہولت سے جو کہہ گیا
لفظ وہ میرے سینے کے ناسور ہیں
جو بھی تعبیر ہو، جو بھی انجام ہو
خواب گر خواب بننے پہ مجبور ہیں
افتخار حیدر
No comments:
Post a Comment