Monday, 9 October 2023

محفل دل سے مرا واحد شناسا بھی گیا

 محفلِ دل سے مِرا واحد شناسا بھی گیا

رائیگانی ہے کہ ہاتھوں سے خسارا بھی گیا

پہلے اس گھر سے مجھے گھر سی محبت دی گئی

پھر اسی گھر سے مجھے آخر نکالا بھی گیا

چھوڑ کر جاتے ہوئے سب نے دلاسہ بھی دیا

زخم دے کر میرے دل کو پھر کریدا بھی گیا

ایک یہ ہی تو حوالہ تھا مِرا اس شہر میں

کیا ستم ہے زندگی سے یہ حوالہ بھی گیا

آنکھ میں آنسو لیے جب کچھ مسافر چل دئیے

جانے والوں میں تِرا اپنا اسامہ بھی گیا


اسامہ گلزار

No comments:

Post a Comment