Friday, 6 October 2023

جب کہا میں نے اس سے الفت ہے

 جب کہا میں نے اس سے الفت ہے

ہنس کے کہنے لگا اگر نہ ہوئی

بید مجنوں کی ایک شاخ ہوئی

وہ لچکتی ہوئی کمر نہ ہوئی

وہ بھی گونگے بنے رہے ہم بھی

گفتگو قصہ مختصر نہ ہوئی

اس نے بیمار کا گلا گھونٹا

جب دوا کوئی کارگر نہ ہوئی

طائر دل کا جو شکار کرے

وہ تو شکرہ ہوا نظر نہ ہوئی

دختر رز کو لے گئے سب رند

پیر مے خانہ کو خبر نہ ہوئی


ظریف لکھنوی

No comments:

Post a Comment