اجنبی راستوں کا مُسافر ہُوں میں
بے نشاں منزلوں کا مسافر ہوں میں
سلسلہ وار بُجھتے گئے ہیں دِیے
رات کے سلسلوں کا مسافر ہوں میں
جس جگہ لُٹ گئے قافلے پیار سے
ایسے ہی راستوں کا مسافر ہوں میں
اب مِرے چار سُو خوف ہی خوف ہے
کیوں ہُوا وحشتوں کا مسافر ہوں میں
چاند بے نُور،۔ فالج زدہ ہے سحر
کون سی ظُلمتوں کا مسافر ہوں میں
وصل کی شب بھی ڈر ہے مجھے ہِجر کا
ان دنوں واہموں کا مسافر ہوں میں
قُربِ منزل ہوں آ! آسرا دے مجھے
اب تِرے آسروں کا مسافر ہوں میں
کتنے بچھڑے ہوئے میں نے مِلوائے ہیں
باہمی رابطوں کا مسافر ہوں میں
عباس علی شاہ ثاقب
No comments:
Post a Comment