Sunday, 9 November 2025

شہر طلب بھی جل گیا آہ جو بے شمار کی

 شہر طلب بھی جل گیا آہ جو بے شمار کی

سوزِ وفا نے زندگی عشق کی سوگوار کی

دردِ فراق بڑھ گیا، آنکھ سے اشک بہہ گئے

نشترِ غم کی ہر خلش ہم نے جگر کے پار کی

روشن ہوا چراغِ دل، نُور میں ڈھل گئی ہے رات

بات زبان پہ آئی تھی ہجر میں ان کے پیار کی

کوئی نہیں ہے چارہ گر، درد سے دل نڈھال ہے

حُسن کو کچھ خبر نہیں عشق کے حالِ زار کی

بیت گئی ہے زندگی،۔ موت کا آ گیا پیام

ختم ہوئی نہ داستاں آپ کے انتظار کی

بسملِ نکتہ دان ابھی ایسے بھی لوگ ہیں یہاں

لوٹ رہے ہیں آبرو اپنے ہی لالہ زار کی


بسمل جلالوی

No comments:

Post a Comment