دولت جسے مِلی وہ کچھ ایسا بدل گیا
حُلیے کے ساتھ ساتھ، رویہ بدل گیا
رَستوں سے نارسائی کا شکوہ کرے وہ کیا
چلنے سے پہلے جس کا ارادہ بدل گیا
ہم تو سمجھ رہے تھے کہ بدلے گا اب روِش
تہذیب اس نگاہ کی مسحُور کر گئی
پھر میری زندگی کا قرینہ بدل گیا
بادل چَھٹے تو دھُوپ غموں کی بِکھر گئی
دو چار دن میں رنگ ہمارا بدل گیا
اِک چہرہ راہِ زیست میں آیا نظر فصیحؔ
یکسر مِرے خیال کی دُنیا بدل گیا
شاہین فصیح ربانی
No comments:
Post a Comment