Wednesday, 8 January 2014

خواب اپنا ہے نہ تعبیر ہماری اپنی

خواب اپنا ہے، نہ تعبیر ہماری اپنی
ہے مگر پاؤں میں زنجیر ہماری اپنی
کوئی دُشمن نے تو نقصان نہیں پہنچایا
گھاؤ دیتی رہی شمشیر ہماری اپنی
ایسے تبدیل کیے گردشِ دوراں نے نقوش
ہم سے مِلتی نہیں تصویر ہماری اپنی
لے گئے دل کی عدالت میں شکایت اس کی
نکل آئی کوئی تقصیر ہماری اپنی
وہ تو مائل بہ کرم تھا، ہمی کم فہم رہے
نارسا کر گئی تاخیر ہماری اپنی
اس کی تذلیل کریں کیسے کہ ڈر لگتا ہے
گھٹ نہ جائے کہیں توقیر ہماری اپنی
کون ایسا ہے جسے ہم سے محبت ہے فصیحؔ
روح شاید ہے بغلگیر ہماری اپنی

شاہین فصیح ربانی

No comments:

Post a Comment