اپنے کام ادھورے چھوڑے، تیرے کام کیے
وقت کی کوئی قید نہ رکھی، صبح و شام کیے
تیری خاطر ڈھونڈ رہا ہوں خوشیاں صبح و شام
جانے کتنی صدیاں بِیتیں، پَل آرام کیے
مرتے دَم تک یاد رہے گا تیرا یہ برتاؤ
اسکی ہے تقسیم نہ کیوں ہو جان و دل سے قبول
اوروں کو خوشیاں دیں، مجھ کو غم انعام کیے
ایک برابر سب ہوتے تو چلتا کیسے نظام
رَبّ نے اس مخلوق میں پیدا خاص و عام کیے
مٹی کے مول بِکا ہے سونا، ہم نہیں آئے تھے
ہم آئے تو مٹی کے تُو نے اونچے دام کیے
ہم منوا نہیں پائے کسی سے اپنی بات کبھی
تیرا کمال ہے تُو نے کیا کیا بندے رام کیے
شاد آباد تھے آنگن سارے، زیست ہمکتی تھی
تُو نے آ کر ظُلم کمایا، سُونے بام کیے
تُو نے لیکن قدر نہ جانی، اے بے مہر فصیحؔ
اپنی عمر کے سُندر لمحے تیرے نام کیے
شاہین فصیح ربانی
No comments:
Post a Comment