Wednesday, 8 January 2014

یہ ہے مجلس شہ عاشقاں کوئی نقد جاں ہو تو لے کے آ

یہ ہے مجلسِ شہِ عاشقاں کوئی نقدِ جاں ہو تو لے کے آ
یہاں چشمِ تر کا رواج ہے، دلِ خونچکاں ہو تو لے کے آ
یہ فضا ہے عنبر و عود کی، یہ محل ہے وردِ درود کا
یہ نمازِ عشق کا وقت ہے، کوئی خوش اذاں ہو تو لے کے آ
یہ جو اک عزا کی نشست ہے، یہ عجب دعا کا حصار ہے
کسی نارسا کو تلاش کر، کوئی بے اماں ہو تو لے کے آ
یہ علم ہے حق کی سبیل کا، یہ علم ہے اہلِ دلیل کا
کہیں اور ایسی قبیل کا، کوئی سائباں ہو تو لے کے آ
یہ حضور و غیب کے سلسلے، یہ متاعِ فکر کے مرحلے
غمِ رائیگاں کی بساط کیا، غمِ جاوداں ہو تو لے کے آ
سرِ لوحِ آب لکھا ہوا، کسی تشنہ مشک کا ماجرا
سرِ فردِ ریگ لکھی ہوئی، کوئی داستاں ہو تولے کے آ
تِرے نقشہ ہائے خیال میں، حدِ نینوا کی نظیر کا
کوئی اور خطۂ آب و گِل، تہہِ آسماں ہو تو لے کے آ
کبھی کُنجِ حُر کے قریب جا، کبھی تا بہ صحنِ حبیب جا
کبھی سوئے بیتِ شبیب جا، کوئی ارمغاں ہو تو لے کے آ
مِرے مدّ وجزر کی خیر ہو کہ سفر ہے دجلۂ دہر کا
کہیں مثلِ نامِ حسین بھی، کوئی بادباں ہو تو لے کے آ
نہ انیس ہوں نہ دبیر ہوں، میں نصیرؔ صرف نصیر ہوں
مِرے حرفِ ظرف کو جانچنے، کوئی نکتہ داں ہو تو لے کے آ
نصیر ترابی

No comments:

Post a Comment