Wednesday, 8 January 2014

دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے

دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے
یہ بھی آزار چلا جائے گا، جاتے جاتے
دل کے سب نقش تھے ہاتھوں کی لکیروں جیسے
نقشِ پا ہوتے تو ممکن تھا مٹاتے جاتے
تھی کبھی راہ جو ہمراہ گزرنے والی
اب حذر ہوتا ہے اس رات سے آتے جاتے
شہرِ بے مہر کبھی ہم کو بھی مہلت دیتا
ایک دِیا ہم بھی کسی رُخ سے جلاتے جاتے
پارۂ ابرِ گریزاں تھے، کہ موسم اپنے
دُور بھی رہتے مگر پاس بھی آتے جاتے
ہر گھڑی اِک جُدا غم ہے، جدائی اس کی
غم کی میعاد بھی وہ لے گیا، جاتے جاتے
اُسکے کوچے میں بھی ہو، راہ سے بے راہ نصیرؔ
اتنے آئے تھے تو آواز لگاتے جاتے

نصیر ترابی

No comments:

Post a Comment