Wednesday, 8 January 2014

رِدائے غم خموشی کا کفن پہنے ہوئے ہے

رِدائے غم خموشی کا کفن پہنے ہوئے ہے
کوئی تیرا، کوئی میرا بدن پہنے ہوئے ہے
اکیلی اور اندھیری رات اور یہ دل اور یادیں
یہ جنگل جگنوؤں کا پیرہن پہنے ہوئے ہے
رہا ہو بھی چکے ہم تو کب کے، مگر دل
یہ وحشی اب بھی زنجیرِ کُہن پہنے ہوئے ہے
کہاں کا دستِ تیشہ، کہاں کا دستِ شیریں
کہ پرویزی لبادہ کوہکن پہنے ہوئے ہے
سُنا ہے ایک ایسا طائفہ ہے دوستوں میں
جو دیوانہ نہیں، دیوانہ پن پہنے ہوئے ہے
فرازؔ اب حالِ دل کس سے کہیں شہر میں تو
جسے دیکھو کلاہِ بانکپن پہنے ہوئے ہے

احمد فراز

No comments:

Post a Comment